30 اپریل 2014 - 16:12
رہبر معظم کا مپنا کمپنی کی نمائشگاہ کا مشاہدہ اور کمپنی کے مدیروں اور کارکنوں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی لیبر دن کی آمد کے موقع پر کرج کے فردیس علاقہ میں مپنا صنعتی کمپنی کے کارکنوں کےمجموعہ میں حاضر ہوئے اور ڈیزائن ، تعمیراتی صنعت، پاور پلانٹس، تیل، گیس، پیٹرو کیمیکل اور دیگر صنعتوں کے بارے میں اس صنعتی گروپ کے دانشوروں، ماہرین اور کارکنوں کی توانائیوں پر مبنی نمائشگاہ کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آج صبح (بروز بدھ) لیبر دن کی آمد کے موقع پر کرج کے فردیس علاقہ میں مپنا صنعتی کمپنی کے کارکنوں کےمجموعہ میں حاضر ہوئے اور ڈیزائن ، تعمیراتی صنعت، پاور پلانٹس، تیل، گیس، پیٹرو کیمیکل اور دیگر صنعتوں کے بارے میں اس صنعتی گروپ کے دانشوروں، ماہرین اور کارکنوں کی توانائیوں پر مبنی نمائشگاہ کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعدمپنا کمپنی کے پرجوش اور ولولہ انگیز کارکنوں، مدیروں ، ڈیزائنروں اور کچھ دوسرے پیداواری یونٹوں کےسیکڑوں کارکنوں کے اجتماع  میں کارکنوں ، مزدوروں اور صنعتی شعبہ میں سرگرم خلاق افراد کے احترام و تکریم کو اسلام کے متن سے برخاستہ ضرورت قراردیا اور ایرانی قوم کی ذہانت اور قابل فخر صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قومی عزم و جہادی مدیریت کا نعرہ صرف اس سال کا نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارا دائمی نعرہ اور ہمارے ملک کے درخشاں مستقبل کا تشخص اور مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مپنا صنعتی گروپ کی صنعتی توانائیوں کے مشاہدے کے دوران نیز رجب المرجب کے آغاز اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے نجف اشرف پاور پلانٹ کا افتتاح کیا جسے مپنا کے ماہرین نے ڈیزائن اور تعمیر کیاتھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ گھنٹے تک مپنا صنعتی کمپنی کے ماہرین کی مختلف شعبوں میں توانائیوں پر مبنی نمائشگاہ کا مشاہدہ کیا۔ مپنا کے ماہرین و متخصصین کی طرف سے مختلف صنعتی بوائیلرز کی تیاری، ہوائی ٹربائين اور بادی پاور پلانٹس کی تعمیر و تنصیب ،ٹربائينوں اور جنریٹرزکی تعمیر، صنعتی کمپریسرز کی  تعمیر،کنٹرول سسٹمز کی تعمیر، تیل کے کنویں اور ان کے پمپ کی تعمیر، سمندری ٹاورز کی ساخت،ڈیزائن اور انجن کی تیاری، سمندری پانی کو شیریں بنانے کی ماشین کا ڈیزائن اور ساخت، ریلوے کے وسائل کی تعمیرات  اور مپنا میں تحقیق اور توسعہ کے امور کو اس نمائشگاہ میں پیش کیا گیا تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس صنعتی مجموعہ کے آثار پر مبنی نمائشگاہ کے مشاہدے کے بعد کام و تلاش کے شعبے میں سرگرم ہزاروں کارکنوں، مزدوروں اور ماہرین کے اجتماع سے خطاب میں ماہ رجب کے برکات اور اس ماہ کےحسن و زیبائی کی طرف اشارہ کیا اور اس ماہ کو بندگی اور ذکر و توجہ کا مہینہ قراردیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالی کی ہدایات اور امداد کے سائے میں ایرانی قوم ترقی کے میدان میں بڑے اور بلند قدم اٹھائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کارکنوں اور مزدوروں کے ساتھ ملاقات کو ہمیشہ جذاب اور خوشحالی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: آج مپنا کے آثار اور ترقیات کو دیکھ کر یہ خوشحالی مضاعف ہوگئی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے کی عام ثقافت میں کام  اور کارکن کی عزت و تکریم کی ضرورت کے بارے میں اپنے گہرے اعتقاد پر ایک بار پھر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلام میں " اصل کام اور تلاش کا عمل"  محترم ہے اور اسی ترقی یافتہ  نظر یہ کی بنا پر اسلام کی توجہ پیداوار کے شعبہ میں سرگرم افراد اور کارکنوں کے حقوق اور منزلت پر استوار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مزدور اور مالک کے درمیان خصومت، جھگڑے اور تضاد پر مبنی نقطہ نگاہ کو مارکسسزم اور مغربی تفکرات کا مشترکہ نقطہ نظر قراردیا اور اس نظریہ کو غلط قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلام نے ان تمام شعبوں بالخصوص پیداوار، ملازمت اور مزدور کے مسائل میں اصل تعاون، احترام اور گفتگو کو قراردیا ہے اور اسی بنیادی اور ترقی یافتہ نظریہ کو تمام سماجی اور اقتصادی شعبوں میں ملاک و معیار اور سرمشق قراردینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مپنا اور دیگر پیداواری یونٹوں کے حکام اور مدیروں کے مجموعہ  میں جس دوسرے نکتہ پر تاکید کی وہ علم و دانش، ذہانت، خلاقیت اور پختہ عزم پر استوار مؤثر کارکردگی تھی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: یہ خوبصورت حقیقت جس کے جلوؤں کو آج ہم نے مپنا میں مشاہدہ کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی عزم اور جہادی مدیریت کا نعرہ صرف اس سال کا نعرہ نہیں بلکہ ایک دائمی نعرہ ہے جو ملک کے درخشاں اور تابناک مستقل کا تشخص اور مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافتی رشد کے بغیر اقتصادی رشد کو ناممکن اور غیر مفید قراردیتے ہوئے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ اس سال کا ہمارا نعرہ زندگی کا نعرہ اور دائمی نعرہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقتصاد اور ثقافت کے رشد کے لئے قومی عزم اور جہادی مدیریت کو ضروری اور لازمی قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر یہ ہدف محقق ہوجائے تو پھر کسی میں ایرانی قوم کو تحقیر کرنے کی ہمت نہیں ہوگي۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی سے قبل ایرانی قوم کی تحقیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جس  دور میں یورپی اور مغربی ممالک حقیقی جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اس دور میں ایران مایہ ناز اور قابل فخر ثقافتی، سماجی اور علمی شخصیات کو معاشرے میں پیش کرتا تھا لیکن جب یہی مغربی ممالک طاغوتی حکمرانوں کی حقارت کے ذریعہ ایران کے اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مسائل پر مسلط ہوئے تو یہ حقیقت، قدیم تمدن و ثقافت سے سرشار ایران کے لئے بڑی تلخ اور بہت بڑی تحقیر تھی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایرانی قوم کی تحقیر کے دور کے خاتمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ایرانی قوم دنیا میں اپنے اہم سیاسی، ثقافتی، اقتصادی اور سماجی مقام کو حاصل کرنا چاہتی ہے اور علمی ترقیات میں مرجع اور سرمشق اور نمونہ عمل میں تبدیل ہونا چاہتی ہے تو پھر اسے تمام شعبوں میں علم و دانش، ذہانت، قدرت، خلاقیت اور پختہ عزم پر تکیہ کرنا چاہیے۔

.......

/169